لائیو موسمیاتی نیٹ ورک پاکستان
لاہور: 26°C • کراچی: 31°C • اسلام آباد: 23°C • پشاور: 27°C • کوئٹہ: 19°C • ملتان: 30°C • گلگت: 17°C • مظفرآباد: 21°C

سردیوں میں چنے کی فصل پر موسم کے اثرات: کورے، دھند اور بارش سے بچاؤ کی مکمل گائیڈ

 

چنا پاکستان کی اہم ترین دال والی فصل (Pulse Crop) ہے جو خاص طور پر بارانی علاقوں کی معیشت کا سہارا ہے۔ پنجاب کے تھل اور چکوال و جہلم کے خطے، سندھ کے بعض اضلاع اور خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں چنے کی کاشت لاکھوں کسانوں کی روزی کا ذریعہ ہے۔ چنے کی فصل اکتوبر اور نومبر میں کاشت ہوتی ہے اور مارچ و اپریل میں کٹتی ہے، یعنی اس کی پوری زندگی سردیوں کے موسم میں گزرتی ہے۔ اس لیے درجہ حرارت، کورا، دھند اور بارش کا ہر اتار چڑھاؤ اس فصل کی پیداوار کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم تفصیل سے جانیں گے کہ سردیوں کا موسم چنے کی فصل پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے اور کسان کن عملی تدابیر سے فصل کو محفوظ رکھ کر شاندار پیداوار حاصل کر سکتے ہیں۔

چنے کی فصل کے لیے موزوں موسم کیا ہے؟

چنا ایک سرد موسم کی فصل ہے مگر اسے شدید سردی برداشت نہیں ہوتی۔ کاشت کے وقت 18 سے 22 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ہو تو بیج کا اگاؤ بہترین ہوتا ہے۔ بڑھوتری کے دوران 15 سے 20 ڈگری موزوں رہتا ہے، جبکہ پھول اور پھلی بننے کے مرحلے پر 20 سے 25 ڈگری درجہ حرارت پیداوار کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ چنے کو مجموعی طور پر 350 سے 400 ملی میٹر بارش کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ فصل ریتلی دوامی (Sandy Loam) مٹی میں بہترین نشوونما پاتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ چنے کی فصل ضرورت سے زیادہ پانی برداشت نہیں کرتی، اس لیے کھیت میں پانی کا نکاس اچھا ہونا ناگزیر ہے۔

کورا: پھول کے مرحلے پر سب سے بڑا خطرہ

سردیوں میں کورا (Frost) چنے کی فصل کا سب سے بڑا دشمن ہے، خاص طور پر جنوری اور فروری میں جب فصل پھول اور پھلی بنانے کے مرحلے میں ہوتی ہے۔ جب رات کا درجہ حرارت صفر یا اس سے نیچے گر جائے تو پھولوں اور ننھی پھلیوں میں موجود پانی جم جاتا ہے۔ اس سے پھول مرجھا جاتے ہیں، پھلیاں نہیں بنتیں اور فصل کی پیداوار میں بھاری کمی آتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پھول کے مرحلے پر ایک ہی شدید کورا پچاس فیصد تک پیداوار گرا سکتا ہے۔

کورے سے بچاؤ کی سب سے مؤثر تدبیر آبپاشی ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی میں کورے کا امکان نظر آئے تو شام کے وقت کھیت کو ہلکا پانی ضرور لگا دیں۔ نم زمین رات بھر حرارت خارج کرتی ہے جس سے درجہ حرارت اچانک نہیں گرتا۔ کھیت کے کناروں پر دھواں کرنا بھی ایک روایتی اور آزمودہ طریقہ ہے جو ٹھنڈی ہوا کی شدت کم کرتا ہے۔

دھند اور کم دھوپ کا اثر

دسمبر اور جنوری میں پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں گھنی دھند (Fog) کئی کئی دن تک سورج کی روشنی روکے رکھتی ہے۔ چنے کے پودوں کو دھوپ کم ملے تو ضیائی تالیف (Photosynthesis) کا عمل سست پڑ جاتا ہے، پودے کمزور ہو جاتے ہیں اور پھلیوں میں دانوں کی بھرائی متاثر ہوتی ہے۔ مسلسل دھند ہوا میں نمی بڑھا دیتی ہے جس سے پھپھوندی کی بیماریاں، خاص طور پر اسکوکائٹا بلائٹ (Ascochyta Blight) اور سرمئی سڑن (Grey Mould)، پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ بیماریاں پتوں پر دھبے ڈالتی ہیں اور پھلیوں کو سڑا دیتی ہیں۔

دھند سے نمٹنے کے لیے فصل کو مناسب فاصلے پر کاشت کریں تاکہ پودوں کے درمیان ہوا کی آمد و رفت برقرار رہے اور نمی زیادہ دیر نہ جمے۔ کھیت میں پانی کا نکاس بہتر رکھیں اور کھڑا پانی ہرگز نہ رہنے دیں۔ بیماری کی ابتدائی علامات، جیسے پتوں پر بھورے یا سرمئی دھبے، نظر آئیں تو محکمہ زراعت کے مشورے سے منظور شدہ فنگس کش دوا (Fungicide) کا بروقت اسپرے کریں۔ اسپرے ہمیشہ دھوپ نکلنے کے بعد اور خشک پتوں پر کریں تاکہ دوا مؤثر ثابت ہو۔

سردیوں کی بارش: بارانی علاقوں کے لیے رحمت

سردیوں میں مغربی ہواؤں (Western Disturbances) سے ہونے والی بارش بارانی علاقوں میں چنے کی فصل کے لیے رحمت سے کم نہیں۔ دسمبر سے فروری کے دوران ہلکی اور وقفے وقفے سے ہونے والی بارش زمین میں نمی برقرار رکھتی ہے اور پھول و پھلی بننے کے مرحلے میں پودوں کی نشوونما میں مدد دیتی ہے۔ تھل کے بارانی علاقوں میں تو یہ بارشیں ہی فصل کی کامیابی کا دارومدار ہوتی ہیں۔

تاہم تیز اور مسلسل بارش نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ کھیت میں پانی کھڑا ہو جائے تو چنے کی جڑیں گلنے لگتی ہیں۔ اس لیے کھیت کی نالیوں کو صاف رکھیں تاکہ اضافی پانی فوراً نکل سکے، اور کٹائی کی منصوبہ بندی ہمیشہ موسمی پیش گوئی دیکھ کر کریں۔

درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی اور وقت پر کاشت کی اہمیت

فروری کے آخر اور مارچ میں درجہ حرارت کا اچانک بڑھنا بھی چنے کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔ اگر گرمی جلدی آ جائے تو پھلیوں کی بھرائی کا وقت کم ہو جاتا ہے اور دانے چھوٹے اور ہلکے رہ جاتے ہیں۔ اس مسئلے کا بہترین حل وقت پر کاشت ہے۔ وقت پر کاشت شدہ فصل گرمی آنے سے پہلے اپنی بھرائی مکمل کر لیتی ہے۔ کاشت میں تاخیر سے ہر صورت گریز کریں، کیونکہ تاخیر سے کاشت شدہ فصل کورے اور جلدی گرمی دونوں کا شکار ہوتی ہے۔

آبپاشی کا درست شیڈول

چنے کو زیادہ پانی کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن درست وقت پر ایک یا دو آبپاشی (Irrigation) پیداوار میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔ اگر سردیوں کی بارشیں نہ ہوں تو پھول آنے سے پہلے ایک ہلکا پانی ضرور لگائیں۔ پھول اور پھلی بننے کے مرحلے پر مٹی میں نمی کی کمی پھولوں کے جھڑنے کا سبب بنتی ہے۔ تاہم یاد رکھیں کہ چنے کو کھڑا پانی بالکل برداشت نہیں، اس لیے پانی ہمیشہ ہلکا اور نکاس کا خیال رکھ کر لگائیں۔

بہتر پیداوار کے لیے عملی مشورے

بہتر پیداوار کے لیے چند بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے اپنے علاقے اور بارانی یا نہری حالات کے لیے منظور شدہ، بیماریوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی قسم کا انتخاب کریں۔ دوسرا، بیج کو کاشت سے پہلے منظور شدہ فنگس کش دوا سے لگائیں تاکہ بیج سے پھیلنے والی بیماریوں سے بچاؤ ہو۔ تیسرا، بیج کی شرح منظور شدہ مقدار کے مطابق رکھیں تاکہ پودوں کی تعداد متوازن رہے اور ہوا کی آمد و رفت میں رکاوٹ نہ ہو۔ چوتھا، جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی کریں کیونکہ جڑی بوٹیاں نمی اور خوراک میں فصل سے مقابلہ کرتی ہیں۔ پانچواں، محکمہ موسمیات کی روزانہ پیش گوئی پر نظر رکھیں اور کورے یا بارش کی وارننگ ملتے ہی حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔

نتیجہ

سردیوں کا موسم چنے کی فصل کے لیے نعمت بھی ہے اور آزمائش بھی۔ معتدل سردی اور وقفے وقفے سے ہونے والی ہلکی بارش بہترین پیداوار کی ضمانت ہے، جبکہ پھول کے مرحلے پر کورا، مسلسل دھند، کھڑا پانی اور اچانک گرمی فصل کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ کامیاب کسان وہ ہے جو وقت پر کاشت کرے، موسمی پیش گوئی پر نظر رکھے، کورے کی وارننگ پر بروقت پانی لگائے اور بیماریوں سے بچاؤ کی تدابیر کرے۔ ان اصولوں پر عمل سے چنے کی فصل موسمی خطرات سے محفوظ رہے گی اور پیداوار و آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

Comments

PakWeatherPro