لائیو موسمیاتی نیٹ ورک پاکستان
لاہور: 26°C • کراچی: 31°C • اسلام آباد: 23°C • پشاور: 27°C • کوئٹہ: 19°C • ملتان: 30°C • گلگت: 17°C • مظفرآباد: 21°C

بارشوں کا بدلتا انداز: پاکستان میں کم مگر تیز بارشوں کا بڑھتا رجحان

پرانے وقتوں میں بزرگ کہا کرتے تھے کہ برسات کے موسم میں ہلکی ہلکی بوندا باندی کئی کئی دن تک چلتی تھی، کھیت نرم ہو جاتے تھے اور دریا و نالے دھیرے دھیرے بھر جاتے تھے۔ آج منظر بدل چکا ہے۔ اب اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مہینوں بارش نہیں ہوتی اور پھر ایک ہی دن میں اتنی تیز بارش ہو جاتی ہے کہ گلیاں دریا بن جاتی ہیں، کھیت ڈوب جاتے ہیں اور شہروں میں سیلاب کا منظر پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ایک ناپا تولا سائنسی رجحان (Trend) ہے جسے دنیا بھر کے موسمیاتی ماہرین دیکھ رہے ہیں: بارشوں کی تعداد کم ہو رہی ہے، مگر ہر بارش کی شدت بڑھ رہی ہے۔ اس مضمون میں ہم جانیں گے کہ پاکستان میں بارشوں کے پیٹرن میں یہ تبدیلی کیوں آ رہی ہے، اس کے کیا اثرات ہیں اور ہم اس سے کیسے نمٹ سکتے ہیں۔


بارشوں کے پیٹرن میں اصل تبدیلی کیا ہے؟

موسمیاتی ریکارڈ اور تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں گزشتہ چند دہائیوں میں بارش والے دنوں کی تعداد میں کمی آئی ہے، لیکن جب بارش ہوتی ہے تو وہ پہلے سے زیادہ تیز اور مختصر مدت کی ہوتی ہے۔ یعنی سالانہ مجموعی بارش (Total Annual Rainfall) میں بہت بڑی تبدیلی نہیں آئی، مگر اس کی تقسیم (Distribution) بدل گئی ہے۔ پہلے جو بارش ہفتوں میں پھیل کر ہوتی تھی، اب وہی مقدار چند گھنٹوں یا چند دنوں میں برس جاتی ہے۔

اس رجحان کی ایک واضح مثال 2022 کے مون سون کے سیلاب ہیں، جب سندھ اور بلوچستان میں چند ہفتوں کے دوران معمول سے کئی گنا زیادہ بارش ہوئی اور ملک کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوب گیا۔ اسی طرح حالیہ برسوں میں لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے شہروں میں ایک ہی دن کی تیز بارش نے اربن فلڈنگ (Urban Flooding) کی صورتحال پیدا کی۔ یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمارا موسم اب "ہلکی اور مسلسل" بارشوں سے "تیز اور مختصر" بارشوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔

اس تبدیلی کی سائنسی وجوہات

اس رجحان کی بنیادی وجہ فضا کا گرم ہونا ہے۔ سائنس کا ایک بنیادی اصول ہے کہ گرم ہوا ٹھنڈی ہوا کے مقابلے میں زیادہ نمی (Moisture) اپنے اندر سمو سکتی ہے۔ تقریباً ہر ایک ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت بڑھنے پر فضا سات فیصد زیادہ نمی رکھنے کی صلاحیت حاصل کر لیتی ہے۔ جب یہ نمی سے بھری ہوا ٹھنڈی ہوتی ہے تو ساری نمی ایک ساتھ بارش کی صورت میں برس پڑتی ہے۔ اسی لیے گرم ہوتے موسم میں بارشیں کم مگر تیز ہو رہی ہیں۔

دوسری وجہ مون سون کے نظام میں تبدیلی ہے۔ بحیرہ عرب اور خلیج بنگال کے پانی کا درجہ حرارت بڑھنے سے مون سون کی ہوائیں زیادہ نمی لے کر آتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مغربی ہواؤں (Western Disturbances) کے پیٹرن میں بھی تبدیلی آ رہی ہے، جس سے سردیوں اور بہار کی بارشوں کا وقت اور شدت متاثر ہو رہی ہے۔ ایل نینو اور لا نینا جیسے عالمی موسمیاتی مظاہر (Phenomena) بھی ان اتار چڑھاؤ میں کردار ادا کرتے ہیں، جن کی وجہ سے بعض سالوں میں بارش معمول سے بہت زیادہ اور بعض میں بہت کم ہو جاتی ہے۔

زراعت پر اثرات: کسان کے لیے نئی چیلنجز

بارشوں کے اس بدلے ہوئے انداز کا سب سے گہرا اثر زراعت پر پڑ رہا ہے۔ ہلکی اور وقفے وقفے سے ہونے والی بارش زمین میں اچھی طرح جذب ہو جاتی ہے اور فصلوں کے لیے نعمت ہوتی ہے، لیکن تیز بارش کا زیادہ تر پانی سطح پر بہہ جاتا ہے اور زمین میں جذب نہیں ہو پاتا۔ اس سے دوہرا نقصان ہوتا ہے: ایک طرف کھیتوں میں پانی کھڑا ہو کر فصل کو نقصان پہنچاتا ہے، دوسری طرف زیرِ زمین پانی (Groundwater) کی ری چارجنگ کم ہو جاتی ہے۔

بارانی علاقوں کے کسان اس تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ پہلے وہ مون سون کی متوقع بارشوں کے حساب سے بوائی کا شیڈول بناتے تھے، اب بارش کا وقت غیر یقینی ہو گیا ہے۔ تیز بارش سے کھڑی فصل کو بھی نقصان پہنچتا ہے: گندم اور چاول کی فصل میں دانے جھڑ جاتے ہیں، پودے گر جاتے ہیں (Lodging) اور کٹائی میں دشواری ہوتی ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کی فصلیں تو تیز بارش اور ژالہ باری سے چند گھنٹوں میں تباہ ہو سکتی ہیں۔

شہروں میں اربن فلڈنگ کا بڑھتا خطرہ

شہروں میں تیز بارشوں کا اثر سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔ کراچی، لاہور، راولپنڈی اور پشاور جیسے شہروں میں نکاسی آب کا نظام (Drainage System) پرانی طرز کی ہلکی بارشوں کے حساب سے بنایا گیا تھا۔ جب ایک گھنٹے میں کئی انچ بارش ہوتی ہے تو نالے اور سیوریج نظام بھر جاتے ہیں، سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں اور نشیبی علاقے زیرِ آب آ جاتے ہیں۔

اس مسئلے کو شہری پھیلاؤ نے مزید بڑھا دیا ہے۔ کنکریٹ اور اسفالٹ کی سطحیں پانی کو زمین میں جذب نہیں ہونے دیتیں، اس لیے بارش کا سارا پانی سطح پر بہہ کر نالوں پر بوجھ ڈال دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق شہروں میں سبز علاقوں کا خاتمہ اور نکاسی نالوں پر تجاوزات اربن فلڈنگ کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔

پانی کے ذخائر پر اثر

بارشوں کے تیز ہونے کا ایک کم نمایاں مگر اہم اثر ڈیموں اور پانی کے ذخائر پر پڑتا ہے۔ جب بارش آہستہ آہستہ ہوتی ہے تو دریا کا بہاؤ متوازن رہتا ہے اور ڈیم آسانی سے پانی ذخیرہ کر لیتے ہیں۔ لیکن تیز بارش سے اچانک سیلابی ریلے آتے ہیں جن کا بڑا حصہ ڈیموں کی گنجائش سے باہر نکل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تیز بہاؤ اپنے ساتھ زیادہ مٹی اور ریت (Silt) بہا لاتا ہے جو ڈیموں میں جمع ہو کر ان کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم کر دیتا ہے۔ تربیلا اور منگلا جیسے بڑے ڈیموں میں سلٹنگ (Silting) پہلے ہی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، اور بارشوں کی بڑھتی شدت اسے مزید بڑھا سکتی ہے۔

ہم کیا کر سکتے ہیں؟ عملی تدابیر

اس بدلتے رجحان سے نمٹنے کے لیے انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔

کسانوں کے لیے سب سے اہم بات موسمی پیش گوئی پر نظر رکھنا ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی دیکھ کر بوائی، آبپاشی اور کٹائی کا شیڈول بنائیں۔ کھیتوں میں پانی کے نکاس کا مناسب انتظام کریں تاکہ تیز بارش کا پانی کھڑا نہ ہو۔ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے کھیت کے کنارے چھوٹے تالاب یا واٹر ہارویسٹنگ (Water Harvesting) کے انتظامات بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ موسمیاتی دباؤ برداشت کرنے والی فصلوں کی اقسام (Climate Resilient Varieties) کا انتخاب بھی دانشمندی ہے۔

شہری سطح پر نکاسی نالوں کی صفائی اور تجاوزات کا خاتمہ ضروری ہے۔ نئے تعمیراتی منصوبوں میں بارش کے پانی کے نکاس اور ذخیرہ اندوزی کو لازمی حصہ بنایا جائے۔ گھروں کی سطح پر چھتوں سے بارش کا پانی جمع کرنے کے نظام (Rainwater Harvesting) نہ صرف اربن فلڈنگ کم کرتے ہیں بلکہ پانی کی قلت میں بھی مدد دیتے ہیں۔

پالیسی کی سطح پر چھوٹے ڈیموں اور آبی ذخائر کی تعمیر، جنگلات کی بحالی اور شہروں میں سبز علاقوں کا تحفظ وہ اقدامات ہیں جو بارشوں کے اس نئے انداز سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

نتیجہ

بارشوں کا پیٹرن بدل رہا ہے اور یہ تبدیلی مستقل نظر آتی ہے۔ کم مگر تیز بارشیں اب ہمارے موسم کی نئی حقیقت ہیں۔ اس سے گھبرانے کی بجائے اسے سمجھ کر تیاری کرنا دانشمندی ہے۔ کسان اگر موسمی پیش گوئی کو اپنی منصوبہ بندی کا حصہ بنا لے، شہر اگر اپنے نکاسی نظام کو بہتر کر لیں اور ہم سب پانی کے ہر قطرے کی قدر کریں تو اس چیلنج کو موقع میں بدلا جا سکتا ہے۔ موسم بدل رہا ہے، اور ہمیں بھی بدلنا ہوگا۔

Comments

PakWeatherPro