لائیو موسمیاتی نیٹ ورک پاکستان
لاہور: 26°C • کراچی: 31°C • اسلام آباد: 23°C • پشاور: 27°C • کوئٹہ: 19°C • ملتان: 30°C • گلگت: 17°C • مظفرآباد: 21°C

آسمانی بجلی سے بچاؤ: گرج چمک کے دوران حفاظت کی مکمل گائیڈ




پاکستان میں مون سون اور مغربی ہواؤں کے موسم میں گرج چمک کے ساتھ بارش ایک عام منظر ہے۔ بادل گرجتے ہیں، آسمان میں بجلی کوندتی ہے اور چند لمحوں میں موسلادھار بارش شروع ہو جاتی ہے۔ یہ منظر جتنا دلکش لگتا ہے، اتنا ہی خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ آسمانی بجلی ہر سال دنیا بھر میں سینکڑوں جانیں لیتی ہے، اور پاکستان میں بھی کھلے کھیتوں، چھتوں اور سڑکوں پر کام کرنے والے افراد اس کے سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بجلی گرنے سے ہونے والی زیادہ تر اموات سے صرف تھوڑی سی احتیاط اور درست معلومات کے ذریعے بچا جا سکتا ہے۔


اس مضمون میں ہم سمجھیں گے کہ آسمانی بجلی کیسے بنتی ہے، گرج چمک کے دوران کیا کرنا چاہیے، اور بجلی گرنے کے بعد فوری مدد کیسے کی جائے۔


آسمانی بجلی کیسے بنتی ہے؟

جب گرم اور مرطوب ہوا تیزی سے اوپر اٹھتی ہے تو آسمان میں گھنے بادل بنتے ہیں جنہیں کملونمبس (Cumulonimbus) کہا جاتا ہے۔ ان بادلوں کے اندر برف کے ذرات اور پانی کے قطرے آپس میں ٹکراتے ہیں، جس سے برقی چارج پیدا ہوتا ہے۔ بادل کا اوپری حصہ عام طور پر مثبت چارج رکھتا ہے اور نچلا حصہ منفی۔ جب یہ چارج بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے تو بجلی کا ایک زوردار جھٹکا بادل سے زمین کی طرف، یا ایک بادل سے دوسرے بادل تک پہنچتا ہے۔ یہی آسمانی بجلی ہے۔


بجلی کی ایک چمک کا درجہ حرارت سورج کی سطح سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے، اور اس کی گرج کئی کلومیٹر دور تک سنائی دیتی ہے۔ یاد رکھیں، بجلی طوفان سے کئی کلومیٹر دور بھی گر سکتی ہے، اس لیے گرج سنتے ہی فوراً محفوظ جگہ تلاش کریں، چاہے بارش ابھی شروع نہ ہوئی ہو۔


پاکستان میں کون سب سے زیادہ خطرے میں ہے؟

پاکستان میں آسمانی بجلی کا خطرہ خاص طور پر دیہی علاقوں میں زیادہ ہے، جہاں لوگ کھلے کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ کسان، مزدور، چرواہے اور کھیل کے میدانوں میں موجود بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ سادہ ہے: کھلی جگہ پر انسان سب سے اونچی چیز بن جاتا ہے، اور بجلی ہمیشہ قریب ترین اونچی چیز کی طرف لپکتی ہے۔


شہروں میں بھی خطرہ کم نہیں۔ چھت پر کام کرنے یا بارش میں موٹر سائیکل چلانے والے افراد بھی خطرے میں ہوتے ہیں۔ درختوں کے نیچے پناہ لینے والے سب سے بڑی غلطی کرتے ہیں، کیونکہ بجلی اکثر درخت پر گرتی ہے اور اس کا کرنٹ زمین کے ذریعے آس پاس کے لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔


گرج چمک کے دوران فوری حفاظتی اقدامات

موسم کی پیش گوئی دیکھنا سب سے پہلی احتیاط ہے۔ اگر محکمہ موسمیات نے گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے تو کھیت، سفر یا کھیل کا پروگرام ملتوی کر دینا بہتر ہے۔ لیکن اگر طوفان اچانک آ جائے تو ان اصولوں پر عمل کریں۔


سب سے پہلے فوراً کسی پکی عمارت کے اندر چلے جائیں۔ بند کمرہ سب سے محفوظ جگہ ہے۔ گاڑی بھی ایک حد تک محفوظ ہے، بشرطیکہ اس کے دروازے اور شیشے بند ہوں۔ اگر کوئی عمارت یا گاڑی قریب نہیں تو نشیبی جگہ پر دبک کر بیٹھ جائیں، پاؤں ایک ساتھ رکھیں اور زمین سے کم سے کم رابطہ رکھیں۔


اس دوران پانی سے دور رہیں۔ تالاب، نہر، دریا یا بارش کے جمع شدہ پانی میں کھڑا ہونا انتہائی خطرناک ہے کیونکہ پانی بجلی کا اچھا موصل ہے۔ اسی طرح دھاتی اشیاء جیسے ٹریکٹر، سائیکل، لوہے کی باڑ، بجلی کے کھمبے اور چھتری کے دھاتی ڈنڈے سے بھی دور رہیں۔


گھر کے اندر بھی احتیاط ضروری ہے

گھر کے اندر بھی کچھ احتیاطیں ضروری ہیں۔ گرج چمک کے دوران بجلی کے آلات کا استعمال کم کر دیں۔ ٹیلی ویژن، کمپیوٹر اور موبائل فون کو چارجنگ پر لگا کر استعمال نہ کریں، کیونکہ بجلی کا جھٹکا تاروں کے ذریعے گھر کے اندر بھی آ سکتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو قیمتی آلات کا پلگ نکال دیں۔


اسی طرح اس دوران پانی کے نل، شاور یا واشنگ مشین سے بھی پرہیز کریں، کیونکہ پانی کی پائپ لائنیں بھی کرنٹ پہنچا سکتی ہیں۔ کھڑکیوں اور دروازوں سے دور رہیں اور دھاتی دروازوں کے ہینڈل کو چھونے سے گریز کریں۔ یہ چھوٹی چھوٹی احتیاطیں بڑے حادثے سے بچا سکتی ہیں۔


وہ غلطیاں جو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں

پاکستان میں آسمانی بجلی سے ہونے والی اموات کی ایک بڑی وجہ عام غلط فہمیاں ہیں۔ سب سے عام غلطی درخت کے نیچے پناہ لینا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ درخت انہیں بارش سے بچائے گا، لیکن درخت بجلی کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ لوگ گرج سن کر بھی کام جاری رکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ بجلی ابھی دور ہے۔ یاد رکھیں، اگر آپ گرج سن سکتے ہیں تو آپ بجلی کی زد میں ہیں۔


تیسری غلطی موبائل فون کے بارے میں پائی جاتی ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ موبائل فون بجلی کو اپنی طرف کھینچتا ہے، جو درست نہیں، لیکن کھلی جگہ پر فون پر بات کرتے ہوئے کھڑے رہنا اس لیے خطرناک ہے کہ آپ محفوظ جگہ جانے میں دیر کر دیتے ہیں۔ چوتھی غلطی یہ ہے کہ طوفان گزرنے کے فوراً بعد لوگ باہر نکل آتے ہیں، حالانکہ آخری گرج کے بعد کم از کم تیس منٹ تک اندر رہنا چاہیے۔


بجلی گرنے کے بعد فوری مدد

اگر کسی شخص پر بجلی گر جائے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں، بلکہ فوری مدد جان بچا سکتی ہے۔ سب سے پہلے یہ جان لیں کہ بجلی کا شکار شخص کے جسم میں کرنٹ باقی نہیں رہتا، اس لیے اسے چھونا محفوظ ہے۔ فوراً ایمرجنسی نمبر پر کال کریں اور متاثرہ شخص کی سانس اور دل کی دھڑکن چیک کریں۔


اگر سانس رک گئی ہو تو فوری طور پر سینے کا دباؤ (CPR) شروع کریں، کیونکہ بجلی گرنے کے بعد دل اور سانس کا رک جانا سب سے بڑا خطرہ ہے۔ جلے ہوئے حصوں کو صاف کپڑے سے ڈھانپیں اور متاثرہ شخص کو فوری طور پر قریبی اسپتال پہنچائیں، چاہے وہ ہوش میں آ گیا ہو، کیونکہ اندرونی چوٹیں بعد میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔ یاد رکھیں، بجلی گرنے کے شکار افراد میں سے بہت سے لوگ فوری طبی امداد سے بچ جاتے ہیں۔


کسانوں اور دیہی خاندانوں کے لیے خصوصی مشورے

کسان بھائیوں کے لیے چند عملی مشورے بہت اہم ہیں۔ کٹائی یا بوائی کے دوران آسمان پر نظر رکھیں۔ اگر بادل گہرے ہو رہے ہوں اور ہوا اچانک تیز ہو جائے تو کام روک کر محفوظ جگہ چلے جائیں۔ مویشیوں کو بھی کھلے میدان میں نہ چھوڑیں، بلکہ کسی شیڈ یا پکی جگہ منتقل کر دیں۔


اسکولوں میں بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ گرج چمک کے دوران کھیل کا میدان چھوڑ کر فوراً اندر آ جائیں۔


نتیجہ

آسمانی بجلی قدرتی آفت ہے، لیکن اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ صرف تین باتیں یاد رکھیں: گرج سنیں تو فوراً اندر جائیں، کھلی جگہ اور درخت سے دور رہیں، اور آخری گرج کے تیس منٹ بعد تک باہر نہ نکلیں۔ موسم کی پیش گوئی پر نظر رکھنا، گھر کے اندر احتیاط کرنا اور دوسروں کو آگاہ کرنا، یہ سب مل کر آپ اور آپ کے خاندان کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ آئندہ جب آسمان گرجے تو اسے محض موسم کا نظارہ نہ سمجھیں، بلکہ احتیاط کا اشارہ سمجھیں۔

Comments

PakWeatherPro