لائیو موسمیاتی نیٹ ورک پاکستان
لاہور: 26°C • کراچی: 31°C • اسلام آباد: 23°C • پشاور: 27°C • کوئٹہ: 19°C • ملتان: 30°C • گلگت: 17°C • مظفرآباد: 21°C

ایل نینو اور لا نینا: پاکستان کے موسم پر ان کے اثرات


تعارف

جب موسمِ گرما کی بارشیں معمول سے زیادہ ہوں یا سردیاں غیر معمولی طور پر گرم گزر جائیں تو ہم اکثر کہتے ہیں کہ موسم بدل گیا ہے۔ لیکن ان تبدیلیوں کے پیچھے بعض اوقات ہزاروں کلومیٹر دور بحر الکاہل (Pacific Ocean) میں رونما ہونے والے واقعات ہوتے ہیں۔ ایل نینو (El Niño) اور لا نینا (La Niña) ایسے ہی دو عالمی موسمیاتی مظاہر ہیں جو پاکستان سمیت پوری دنیا کے موسم پر گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم ان دونوں کی سائنسی وضاحت کریں گے اور جانیں گے کہ یہ پاکستان کے موسم، بارشوں اور زراعت کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔

ایل نینو کیا ہے؟

ایل نینو ایک ہسپانوی لفظ ہے جس کا مطلب ہے "چھوٹا بچہ"۔ سائنسی اصطلاح میں یہ بحر الکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندری پانی کے درجہ حرارت کا غیر معمولی طور پر بڑھ جانا ہے۔ عام حالات میں بحر الکاہل میں مشرق سے مغرب کی طرف تیز تجارتی ہوائیں (Trade Winds) چلتی ہیں جو گرم سطحی پانی کو ایشیا کی طرف دھکیلتی ہیں، جبکہ جنوبی امریکہ کے ساحل کے قریب ٹھنڈا گہرا پانی اوپر آتا ہے۔ ایل نینو کے دوران یہ ہوائیں کمزور پڑ جاتی ہیں یا ان کی سمت بدل جاتی ہے، جس سے گرم پانی مشرق کی طرف، یعنی جنوبی امریکہ کے ساحل کی طرف جمع ہو جاتا ہے۔

یہ عمل تقریباً ہر دو سے سات سال میں ایک بار رونما ہوتا ہے اور نو ماہ سے ایک سال تک جاری رہ سکتا ہے۔ ایل نینو کی شدت کو اوشینک نینو انڈیکس (Oceanic Niño Index) سے ناپا جاتا ہے۔ جب یہ انڈیکس 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو تو ایل نینو کی حالت سمجھی جاتی ہے۔

لا نینا کیا ہے؟

لا نینا ہسپانوی میں "چھوٹی بچی" کے معنی رکھتا ہے اور یہ ایل نینو کا بالکل الٹ مظہر ہے۔ اس دوران بحر الکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں کا پانی معمول سے زیادہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ تجارتی ہوائیں اس وقت معمول سے زیادہ طاقتور ہوتی ہیں جو گرم پانی کو ایشیا کی طرف دھکیل دیتی ہیں اور جنوبی امریکہ کے ساحل پر ٹھنڈا پانی مزید اوپر آ جاتا ہے۔

لا نینا بھی تقریباً ہر دو سے سات سال میں رونما ہوتی ہے اور بعض اوقات یہ ایل نینو کے فوراً بعد آتی ہے۔ دونوں کے درمیان کی غیر جانبدار حالت کو ENSO غیر جانبدار (ENSO Neutral) کہا جاتا ہے، جہاں ENSO کا مطلب ہے ایل نینو سدرن آسلیشن (El Niño Southern Oscillation)۔

یہ دونوں کیسے بنتے ہیں؟

ان مظاہر کی بنیاد سمندر اور فضا کے درمیان پیچیدہ تعامل ہے۔ سورج کی حرارت، زمین کی گردش اور ہواؤں کے دباؤ کے نظام مل کر یہ چکر چلاتے ہیں۔ جب تجارتی ہوائیں کمزور ہوتی ہیں تو گرم پانی مشرق کی طرف بہتا ہے، جس سے اوپر کی فضا گرم ہو کر عالمی ہوائی دھاروں (Jet Streams) کی سمت بدل دیتی ہے۔ یہی تبدیلی پھر دنیا بھر کے بارش کے پیٹرن، طوفانوں اور درجہ حرارت کو متاثر کرتی ہے۔ سائنسدان سیٹلائٹس اور سمندری بوائے (Buoys) کے ذریعے ان تبدیلیوں کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں، اسی لیے ان کی پیش گوئی کئی ماہ پہلے ممکن ہو جاتی ہے۔

پاکستان کے موسم پر ایل نینو کے اثرات

تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ایل نینو کے دوران پاکستان میں مون سون کی بارشیں عام طور پر معمول سے کم ہوتی ہیں۔ خاص طور پر سندھ اور بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں خشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ 2015 اور 2016 کے طاقتور ایل نینو کے دوران پاکستان کے کئی حصوں میں بارشیں نمایاں طور پر کم ریکارڈ کی گئیں تھیں۔

اس کے علاوہ ایل نینو کے سالوں میں سردیوں کی بارشیں (مغربی ہواؤں کے سلسلے) بھی متاثر ہو سکتی ہیں، جس سے ربیع کی فصلوں خصوصاً گندم کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ درجہ حرارت کے لحاظ سے ایل نینو کے دوران عالمی اوسط درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور پاکستان میں بھی گرمی کی شدت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

لا نینا کے پاکستان پر اثرات

لا نینا عموماً پاکستان کے لیے ایل نینو کے برعکس اثرات لاتی ہے۔ اس دوران مون سون کی بارشیں معمول سے زیادہ ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر پنجاب اور خیبر پختونخوا کے شمالی علاقوں میں۔ 2010 اور 2011 کی تباہ کن سیلابی بارشوں کا تعلق بھی ایک طاقتور لا نینا سے جوڑا جاتا ہے، جب پاکستان کی تاریخ کے بدترین سیلاب آئے تھے۔

لا نینا کے دوران سردیاں بھی زیادہ شدید ہو سکتی ہیں اور مغربی ہواؤں کے سلسلے زیادہ فعال رہتے ہیں، جس سے شمالی علاقوں میں برفباری بڑھ جاتی ہے۔ تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہر لا نینا ایک جیسی نہیں ہوتی؛ اس کی شدت اور دیگر موسمی عوامل مل کر حتمی نتیجہ طے کرتے ہیں۔

کسانوں اور عام شہریوں کے لیے عملی مشورے

ان عالمی مظاہر کی پیش گوئی کئی ماہ پہلے دستیاب ہوتی ہے، اس لیے ان سے فائدہ اٹھانا دانشمندی ہے۔ کسان بھائیوں کو چاہیے کہ وہ محکمہ موسمیات کی موسمی پیش گوئیوں پر نظر رکھیں۔ اگر ایل نینو کی پیش گوئی ہو تو پانی کی بچت والی فصلوں اور جدید آبپاشی کے طریقوں جیسے ڈرپ ایریگیشن (Drip Irrigation) پر توجہ دیں۔ لا نینا کی صورت میں نشیبی علاقوں کے کسان اپنی فصلوں کی نکاسی آب کا پہلے سے بندوبست کریں۔

عام شہریوں کے لیے مشورہ ہے کہ موسم کی خبروں کو سنجیدگی سے لیں۔ لا نینا کے سالوں میں سیلاب کے خطرے والے علاقوں کے رہائشی ہنگامی تیاری رکھیں، جبکہ ایل نینو کے دوران پانی کے ذخائر کا دانشمندانہ استعمال کریں۔ موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں باخبر رہنا ہی سب سے بڑا تحفظ ہے۔

نتیجہ

ایل نینو اور لا نینا اس بات کی واضح مثال ہیں کہ ہمارا موسم ایک عالمی نظام کا حصہ ہے۔ بحر الکاہل میں ہونے والی ایک تبدیلی پاکستان کے کھیتوں، دریاؤں اور شہروں تک اپنا اثر پہنچاتی ہے۔ ان مظاہر کو سمجھ کر ہم بہتر تیاری کر سکتے ہیں، اپنی زراعت کو محفوظ بنا سکتے ہیں اور قدرتی آفات کے نقصانات کم کر سکتے ہیں۔ پاک ویدر پرو آپ کو موسم کی ہر اہم تحقیق سے باخبر رکھے گا۔

Comments

PakWeatherPro