لائیو موسمیاتی نیٹ ورک پاکستان
لاہور: 26°C • کراچی: 31°C • اسلام آباد: 23°C • پشاور: 27°C • کوئٹہ: 19°C • ملتان: 30°C • گلگت: 17°C • مظفرآباد: 21°C

مون سون کا بدلتا پیٹرن اور پاکستان: تحقیق اور تجزیہ

 

تعارف


پاکستان میں ہر سال جولائی سے ستمبر تک مون سون کی بارشیں نہ صرف کھیتوں کو سیراب کرتی ہیں بلکہ دریاؤں، تالابوں اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو بھی بھر دیتی ہیں۔ ہمارے ملک کا زرعی کیلنڈر، فصلوں کی بوائی اور کٹائی، سب اسی مون سون کے نظام کے گرد گھومتی ہیں۔ لیکن گزشتہ کچھ برسوں کے دوران ماہرینِ موسمیات اور کسانوں دونوں نے ایک چیز نوٹ کی ہے: مون سون اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ کہیں بارشیں دیر سے آتی ہیں، کہیں ایک ہی دن میں اتنا پانی برس جاتا ہے کہ شہر ڈوب جاتے ہیں، اور کہیں وہ علاقے خشک رہ جاتے ہیں جو کبھی باقاعدہ بارش سے نہلاتے تھے۔ آئیے تحقیق اور تجزیے کی روشنی میں سمجھتے ہیں کہ مون سون کا پیٹرن کیسے بدل رہا ہے اور اس کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

مون سون کا روایتی پیٹرن کیا تھا؟

مون سون دراصل موسمی ہواؤں کا ایک ایسا نظام ہے جو سمندری اور زمینی درجہ حرارت کے فرق سے پیدا ہوتا ہے۔ گرم ترین مہینوں میں برصغیر کی زمین بہت گرم ہو جاتی ہے تو خلیجِ بنگال اور بحیرہ عرب سے نمی سے بھری ہوائیں اندرونِ ملک داخل ہوتی ہیں۔ پاکستان میں یہ ہوائیں عموماً جولائی کے اوائل میں داخل ہوتی تھیں اور ستمبر کے آخر تک مختلف علاقوں میں بارشیں برساتی تھیں۔ روایتی طور پر پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں مون سون کی بارشیں جولائی اور اگست میں عروج پر ہوتی تھیں، جبکہ خیبر پختونخوا اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں انہی مہینوں میں زیادہ بارش ریکارڈ ہوتی تھی۔ بلوچستان کا بیشتر حصہ مون سون کی حد کے باہر رہتا تھا۔ یہ پیٹرن دہائیوں تک کافی حد تک باقاعدہ رہا، جس کی وجہ سے کسان اپنی فصل کی منصوبہ بندی اسی پر کرتے تھے۔

حالیہ برسوں میں کیا بدلاؤ نظر آیا ہے؟

محکمہ موسمیات کے ماہرین کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں مون سون کے رویے میں کئی نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ سب سے اہم تبدیلی یہ ہے کہ بارش اب طویل عرصے تک ہلکی ہلکی پھوار کی شکل میں کم اور شدید، مختصر دھاروں (intense downpours) کی صورت میں زیادہ برس رہی ہے۔ یعنی ایک ہی گھنٹے میں اتنی بارش ہو جاتی ہے جو پہلے کئی دنوں میں ہوتی تھی۔ دوسرا بدلاؤ یہ ہے کہ مون سون کی آمد کا وقت غیر یقینی ہو گیا ہے؛ کبھی یہ جلدی شروع ہو جاتا ہے اور کبھی جولائی کے وسط تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ تیسرا بدلاؤ جغرافیائی پھیلاؤ میں ہے: وہ علاقے جو کبھی مون سون کی حد سے باہر تھے، جیسے بلوچستان کے کچھ حصے، اب غیر معمولی شدید بارشیں دیکھ رہے ہیں، جبکہ کچھ روایتی بارش والے علاقوں میں بارش کی مقدار میں اتار چڑھاؤ بڑھ گیا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) کا کردار

موسمیاتی سائنسدانوں کا اس بات پر وسیع اتفاق ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ (global warming) مون سون کے نظام کو متاثر کر رہا ہے۔ گرم ہوا زیادہ نمی جذب کرتی ہے، اسی لیے جب بارش برستی ہے تو وہ پہلے سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سمندری سطح کے درجہ حرارت میں اضافے سے ہواؤں کے دباؤ کے نظام (pressure systems) کی پوزیشن بھی بدلتی ہے، جس سے مون سون کی ہوائیں کبھی غیر معمولی طور پر تیز اور کبھی کمزور ہو جاتی ہیں۔ پاکستان چونکہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، اس لیے یہاں یہ اثرات زیادہ نمایاں ہیں۔ عالمی تحقیقی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اگلی دہائیوں میں جنوبی ایشیا میں انتہائی موسمی واقعات (extreme weather events) کی تعداد اور شدت میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

ایل نینو اور لا نینا (El Niño اور La Niña) کے اثرات

مون سون کے پیٹرن پر ایل نینو اور لا نینا جیسے عالمی سمندری مظاہر کا بھی گہرا اثر ہوتا ہے۔ ایل نینو کے دوران بحرالکاہل کے مشرقی حصے میں سمندری پانی گرم ہو جاتا ہے، جس سے عام طور پر جنوبی ایشیا میں مون سون کمزور پڑ سکتا ہے اور بارشیں معمول سے کم ہو سکتی ہیں۔ اس کے برعکس لا نینا کے دوران سمندری پانی ٹھنڈا ہوتا ہے اور مون سون عام طور پر زیادہ فعال ہو جاتا ہے، جس سے شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان مظاہر کی شدت اور تعدد بھی موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ بدل رہی ہے، جس کی وجہ سے ہر سال مون سون کی پیشگوئی پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اسی لیے محکمہ موسمیات اب موسمی پیشگوئیوں کے لیے ان عالمی عوامل کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔

بدلتے مون سون کے زراعت پر اثرات

پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے اور زراعت مون سون کی باقاعدگی پر۔ جب بارشیں وقت پر اور مناسب مقدار میں آتی تھیں تو چاول، کپاس اور مکئی جیسی خریف کی فصلیں بہتر پیداوار دیتی تھیں۔ لیکن اب شدید اور اچانک بارشیں کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچاتی ہیں؛ کھیتوں میں پانی کھڑا ہو جاتا ہے جس سے جڑیں گل جاتی ہیں اور پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ دوسری طرف اگر مون سون دیر سے آئے یا کمزور رہے تو بوائی میں تاخیر ہوتی ہے اور فصل کا سائیکل بگڑ جاتا ہے۔ ماہرینِ زراعت تجویز کرتے ہیں کہ کسان اب موسم کی پیشگوئی کو روزانہ چیک کریں، ایسی اقسام (varieties) کا انتخاب کریں جو پانی کی کمی یا زیادتی دونوں برداشت کر سکیں، اور نکاسیِ آب (drainage) کے بہتر انتظامات کریں تاکہ شدید بارش کے بعد پانی کھیتوں میں نہ ٹھہرے۔

شہری سیلاب اور پانی کا انتظام

بدلتے مون سون کا ایک اور نمایاں اثر شہری علاقوں میں نظر آتا ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں ایک ہی دن کی شدید بارش سڑکوں کو ندیوں میں بدل دیتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ شہروں کا نکاسیِ آب کا نظام پرانی طرز کی بارش کے مطابق ڈیزائن ہوا تھا، یعنی ہلکی اور طویل بارش کے لیے؛ اچانک اور شدید دھاروں کو سنبھالنے کی صلاحیت اس میں نہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے شہری منصوبہ ساز اب "اسپنج سٹی" (sponge city) جیسے تصورات پر غور کر رہے ہیں، جن میں بارش کے پانی کو جذب کرنے والے سبز علاقے اور تالاب بنائے جاتے ہیں۔ گھریلو سطح پر بھی چھتوں سے بارش کا پانی جمع کرنے (rainwater harvesting) کے نظام لگانا ایک مفید قدم ہو سکتا ہے، جس سے پانی کا ضیاع کم اور زیرِ زمین ذخائر بہتر ہوں گے۔

مستقبل میں کیا متوقع ہے؟

موسمیاتی ماڈلز کے مطابق پاکستان میں مون سون کا پیٹرن آنے والے برسوں میں مزید غیر یقینی ہو سکتا ہے۔ توقع ہے کہ کل بارش کی مقدار میں بڑے پیمانے پر کمی نہیں آئے گی، لیکن بارش کے واقعات زیادہ شدید اور کم باقاعدہ ہوں گے۔ یعنی خشک وقفے طویل اور بارش کی دھاریں تیز تر ہو سکتی ہیں۔ شمالی علاقہ جات میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے ساتھ مون سون کی شدید بارشیں مل کر دریاؤں میں اچانک سیلاب (flash floods) کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔ یہ منظرنامہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ پاکستان اپنے موسمی نگرانی کے نظام (early warning systems) کو مزید مضبوط بنائے اور صوبائی و ضلعی سطح پر آفات سے نمٹنے کی تیاری کو معمول کا حصہ بنایا جائے۔

ہم کیا تیاری کر سکتے ہیں؟

بدلتے مون سون کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر اقدامات ضروری ہیں۔ کسانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ محکمہ موسمیات کی موسمی پیشگوئیوں اور زرعی مشوروں پر عمل کریں اور فصل کی انشورنس (crop insurance) جیسی سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں۔ شہری شہریوں کو چاہیے کہ مون سون سے پہلے اپنے علاقے کے نالوں کی صفائی کو یقینی بنائیں اور ایمرجنسی کے لیے بنیادی سامان تیار رکھیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو نکاسیِ آب کے نظام کی اپ گریڈیشن، درختوں کی کٹائی کی روک تھام اور آبی ذخائر کی تعمیر پر توجہ دینی چاہیے۔ اور ہم سب کو اپنی روزمرہ زندگی میں ماحول دوست عادات اپنا کر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

نتیجہ

مون سون کا بدلتا پیٹرن کوئی عارضی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ ایک طویل مدتی رجحان ہے جس کی جڑیں عالمی موسمیاتی تبدیلی میں پیوست ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک دوہرے چیلنج کی صورت میں سامنے آیا ہے: ایک طرف شدید بارشوں اور سیلاب کا بڑھتا خطرہ، دوسری طرف زراعت اور پانی کے انتظام پر دباؤ۔ اچھی خبر یہ ہے کہ درست معلومات، بروقت پیشگوئی اور مناسب تیاری سے ان خطرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ موسم کی خبروں پر نظر رکھیں، ماہرین کے مشوروں پر عمل کریں اور اپنے اردگرد کے ماحول کا خیال رکھیں — کیونکہ بدلتے موسم کے دور میں باخبر شہری ہی سب سے مضبوط ڈھال ہے۔

Comments

PakWeatherPro